Poetry
- آنکھ سے پردہ نہ کر پردے کا گھر یہ بھی تو ہےتو تو دیکھے ہم نہ دیکھیں طرفہ تر یہ بھی تو ہےChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- بہار چشم ترے حسن کی بہار سے لوںشمیم لوں تو تری زلف مشکبار سے لوںChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- مثل گل کھل کہ یہ غنچہ دہنی خوب نہیںبات کر ہم سے بھی کچھ کم سخنی خوب نہیںChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- آتا نہیں جو سامنے مارے حجاب کےہم دل سے ہیں نثار اسی آفتاب کےChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- بھروسہ ہے ترا ہی اور ہے تیرے سوا کس کانہ دیوے آسرا جب تو مجھے ہو آسرا کس کاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- جب غنچے نے سر اپنا گریباں سے نکالابلبل نے قدم پھر نہ گلستاں سے نکالاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- جلوہ گر تھا ہر جگہ کعبہ تھا یا بت خانہ تھاگھر ہزاروں تھے مگر وہ ایک صاحب خانہ تھاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- حیراں تھا کہ دل میرا کہاں جا کے چھپا ہےجگنو کی طرح یار کی دستار میں چمکاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- نور تھا یا شعلہ تھا یا برق یا خورشید تھاکچھ تو اے موسیٰ کہو کیا تھا وہ جلوہ طور کاChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)
- نیکی کا کوئی کام ہی آیا نہیں مجھ سےکیا ہووے گا انجام مرا کچھ نہیں معلومChandu Lal Bahadur Shadan (1763–1845)