Poetry
- پوچھتے ہیں وہ عشق کا مطلباب نکل جائے گا مرا مطلببشیر الدین احمد دہلوی
- جب ملیں گے کہ اب ملیں گے آپنہیں معلوم کب ملیں گے آپبشیر الدین احمد دہلوی
- چراغ اس نے بجھا بھی دیا جلا بھی دیایہ میری قبر پہ منظر نیا دکھا بھی دیابشیر الدین احمد دہلوی
- ذوق الفت اب بھی ہے راحت کا ارماں اب بھی ہےدل پریشاں روح ترساں چشم گریاں اب بھی ہےبشیر الدین احمد دہلوی
- کون کہتا ہے نسیم سحری آتی ہےنکہت گل میں بسی ایک پری آتی ہےبشیر الدین احمد دہلوی
- لڑ ہی جائے کسی نگار سے آنکھکاش ٹھہرے کہیں قرار سے آنکھبشیر الدین احمد دہلوی
- ہے دنیا میں زباں میری اگر بندمگر معنی کے مجھ پر کب ہیں در بندبشیر الدین احمد دہلوی
- وہ اپنے مطلب کی کہہ رہے ہیں زبان پر گو ہے بات میریکبھی وہ ملتا ہے دشمنوں سے کبھی وہ ملتا ہے مجھ سے آ کربشیر الدین احمد دہلوی