Poetry
- باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے باز آڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکشاب مے کدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- خدا جانے اجل کو پہلے کس پر رحم آئے گاگرفتار قفس پر یا گرفتار نشیمن پرYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیاسر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کشش لکھنؤ ارے توبہپھر وہی ہم وہی امین آبادYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہودل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروںسنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھیلے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- نئی زمین نیا آسماں نئی دنیاعجیب شے یہ طلسم خیال ہوتا ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
- یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبارمہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گاYaas Yagana Changezi (1884–1956)