Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. باز آ ساحل پہ غوطے کھانے والے باز آڈوب مرنے کا مزہ دریائے بے ساحل میں ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  2. پہنچی یہاں بھی شیخ و برہمن کی کشمکشاب مے کدہ بھی سیر کے قابل نہیں رہاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  3. خدا جانے اجل کو پہلے کس پر رحم آئے گاگرفتار قفس پر یا گرفتار نشیمن پرYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  4. سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیاسر پھرا دے انساں کا ایسا خبط مذہب کیاYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  5. کشش لکھنؤ ارے توبہپھر وہی ہم وہی امین آبادYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  6. کعبہ نہیں کہ ساری خدائی کو دخل ہودل میں سوائے یار کسی کا گزر نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  7. گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروںسنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  8. موت مانگی تھی خدائی تو نہیں مانگی تھیلے دعا کر چکے اب ترک دعا کرتے ہیںYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  9. نئی زمین نیا آسماں نئی دنیاعجیب شے یہ طلسم خیال ہوتا ہےYaas Yagana Changezi (1884–1956)
  10. یاسؔ اس چرخ زمانہ ساز کا کیا اعتبارمہرباں ہے آج کل نا مہرباں ہو جائے گاYaas Yagana Changezi (1884–1956)