Poetry
- آنکھ کی یہ ایک حسرت تھی کہ بس پوری ہوئیآنسوؤں میں بھیگ جانے کی ہوس پوری ہوئیShahryar (1936–2012)
- آنکھوں میں تیری دیکھ رہا ہوں میں اپنی شکلیہ کوئی واہمہ یہ کوئی خواب تو نہیںShahryar (1936–2012)
- بہت شور تھا جب سماعت گئیبہت بھیڑ تھی جب اکیلے ہوئےShahryar (1936–2012)
- زباں ملی بھی تو کس وقت بے زبانوں کوسنانے کے لیے جب کوئی داستاں نہ رہیShahryar (1936–2012)
- کون سی بات ہے جو اس میں نہیںاس کو دیکھے مری نظر سے کوئیShahryar (1936–2012)
- وقت کو کیوں بھلا برا کہیےتجھ کو ہونا ہی تھا جدا ہم سےShahryar (1936–2012)
- ہم جدا ہو گئے آغاز سفر سے پہلےجانے کس سمت ہمیں راہ وفا لے جاتیShahryar (1936–2012)
- ہے آج یہ گلہ کہ اکیلا ہے شہریارؔترسو گے کل ہجوم میں تنہائی کے لئےShahryar (1936–2012)
- ہے کوئی جو بتائے شب کے مسافروں کوکتنا سفر ہوا ہے کتنا سفر رہا ہےShahryar (1936–2012)