Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھ کی یہ ایک حسرت تھی کہ بس پوری ہوئیآنسوؤں میں بھیگ جانے کی ہوس پوری ہوئیShahryar (1936–2012)
  2. آنکھوں میں تیری دیکھ رہا ہوں میں اپنی شکلیہ کوئی واہمہ یہ کوئی خواب تو نہیںShahryar (1936–2012)
  3. بہت شور تھا جب سماعت گئیبہت بھیڑ تھی جب اکیلے ہوئےShahryar (1936–2012)
  4. زباں ملی بھی تو کس وقت بے زبانوں کوسنانے کے لیے جب کوئی داستاں نہ رہیShahryar (1936–2012)
  5. کون سی بات ہے جو اس میں نہیںاس کو دیکھے مری نظر سے کوئیShahryar (1936–2012)
  6. وقت کو کیوں بھلا برا کہیےتجھ کو ہونا ہی تھا جدا ہم سےShahryar (1936–2012)
  7. ہم جدا ہو گئے آغاز سفر سے پہلےجانے کس سمت ہمیں راہ وفا لے جاتیShahryar (1936–2012)
  8. ہے آج یہ گلہ کہ اکیلا ہے شہریارؔترسو گے کل ہجوم میں تنہائی کے لئےShahryar (1936–2012)
  9. ہے کوئی جو بتائے شب کے مسافروں کوکتنا سفر ہوا ہے کتنا سفر رہا ہےShahryar (1936–2012)