Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزاہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
  2. کبھی ان مد بھری آنکھوں سے پیا تھا اک جامآج تک ہوش نہیں ہوش نہیں ہوش نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  3. کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظمیں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  4. موت کیا ایک لفظ بے معنیجس کو مارا حیات نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
  5. ہائے رے مجبوریاں محرومیاں ناکامیاںعشق آخر عشق ہے تم کیا کرو ہم کیا کریںJigar Moradabadi (1890–1960)
  6. ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکامسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیاJigar Moradabadi (1890–1960)