Poetry
- عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزاہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
- کبھی ان مد بھری آنکھوں سے پیا تھا اک جامآج تک ہوش نہیں ہوش نہیں ہوش نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظمیں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھاJigar Moradabadi (1890–1960)
- موت کیا ایک لفظ بے معنیجس کو مارا حیات نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہائے رے مجبوریاں محرومیاں ناکامیاںعشق آخر عشق ہے تم کیا کرو ہم کیا کریںJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکامسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیاJigar Moradabadi (1890–1960)