Poetry
- جو کہا وہ نہیں کیا اس نےوہ کیا جو نہیں کہا اس نےFahmi Badayuni (b. 1952)
- چھت کا حال بتا دیتا ہےپرنالے سے گرتا پانیFahmi Badayuni (b. 1952)
- خوشی سے کانپ رہی تھیں یہ انگلیاں اتنیڈلیٹ ہو گیا اک شخص سیو کرنے میںFahmi Badayuni (b. 1952)
- خوں پلا کر جو شیر پالا تھااس نے سرکس میں نوکری کر لیFahmi Badayuni (b. 1952)
- سخت مشکل تھا امتحان غزلمیرؔ کی نقل کر کے پاس ہوئےFahmi Badayuni (b. 1952)
- شہسواروں نے روشنی مانگیمیں نے بیساکھیاں جلا ڈالیںFahmi Badayuni (b. 1952)
- کچھ نہ کچھ بولتے رہو ہم سےچپ رہو گے تو لوگ سن لیں گےFahmi Badayuni (b. 1952)
- لیلیٰ گھر میں سلائی کرنے لگیقیس دلی میں کام کرنے لگاFahmi Badayuni (b. 1952)
- مر گیا ہم کو ڈانٹنے والااب شرارت میں جی نہیں لگتاFahmi Badayuni (b. 1952)
- میں تو رہتا ہوں دشت میں مصروفقیس کرتا ہے کام کاج مراFahmi Badayuni (b. 1952)
- میں نے اس کی طرف سے خط لکھااور اپنے پتے پہ بھیج دیاFahmi Badayuni (b. 1952)