Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. یاں خاک کا بستر ہے، گلے میں کفنی ہےواں ہاتھ میں آئینہ ہے، گل پیرہنی ہےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  2. یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنومرے فسانۂ غم کو مری زباں سے سنوBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  3. اے وائے انقلاب زمانے کے جور سےدلی ظفرؔ کے ہاتھ سے پل میں نکل گئیBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  4. بنایا اے ظفرؔ خالق نے کب انسان سے بہترملک کو دیو کو جن کو پری کو حور و غلماں کوBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  5. تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیںہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیاBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  6. تو کہیں ہو دل دیوانہ وہاں پہنچے گاشمع ہوگی جہاں پروانہ وہاں پہنچے گاBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  7. حال دل کیوں کر کریں اپنا بیاں اچھی طرحروبرو ان کے نہیں چلتی زباں اچھی طرحBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  8. غضب ہے کہ دل میں تو رکھو کدورتکرو منہ پہ ہم سے صفائی کی باتیںBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  9. کوئی کیوں کسی کا لبھائے دل کوئی کیا کسی سے لگائے دلوہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دکان اپنی بڑھا گئےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  10. کیا تاب کیا مجال ہماری کہ بوسہ لیںلب کو تمہارے لب سے ملا کر کہے بغیرBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  11. لڑا کر آنکھ اس سے ہم نے دشمن کر لیا اپنانگہ کو ناز کو انداز کو ابرو کو مژگاں کوBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  12. لوگوں کا احسان ہے مجھ پر اور ترا میں شکر گزارتیر نظر سے تم نے مارا لاش اٹھائی لوگوں نےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  13. میرے سرخ لہو سے چمکی کتنے ہاتھوں میں مہندیشہر میں جس دن قتل ہوا میں عید منائی لوگوں نےBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  14. میں سسکتا رہ گیا اور مر گئے فرہاد و قیسکیا انہی دونوں کے حصے میں قضا تھی میں نہ تھاBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  15. یار تھا گلزار تھا باد صبا تھی میں نہ تھالائق پابوس جاناں کیا حنا تھی میں نہ تھاBahadur Shah Zafar (1775–1862)
  16. یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں بلبلیںاپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گیBahadur Shah Zafar (1775–1862)