Poetry
- ارے کیوں ڈر رہے ہو جنگل سےیہ کوئی آدمی کی بستی ہےAhmad Mushtaq
- بلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھیمجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گاAhmad Mushtaq
- بہت اداس ہو تم اور میں بھی بیٹھا ہوںگئے دنوں کی کمر سے کمر لگائے ہوئےAhmad Mushtaq
- جب شام اترتی ہے کیا دل پہ گزرتی ہےساحل نے بہت پوچھا خاموش رہا پانیAhmad Mushtaq
- جیسے پو پھٹ رہی ہو جنگل میںیوں کوئی مسکرائے جاتا ہےAhmad Mushtaq
- سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگآنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کوAhmad Mushtaq
- گزرے ہزار بادل پلکوں کے سائے سائےاترے ہزار سورج اک شہ نشین دل پرAhmad Mushtaq
- ملنے کی یہ کون گھڑی تھیباہر ہجر کی رات کھڑی تھیAhmad Mushtaq
- وہاں سلام کو آتی ہے ننگے پاؤں بہارکھلے تھے پھول جہاں تیرے مسکرانے سےAhmad Mushtaq