Poetry
Mutaqarib Musamman Salim Muza'af
متقارب مثمن سالم مضاعف- سنا بھی کبھی ماجرا درد و غم کا کسی دل جلے کی زبانی کہو تونکل آئیں آنسو کلیجہ پکڑ لو کروں عرض اپنی کہانی کہو توSaail Dehlvi (1867–1945)
- میں ان سب میں اک امتیازی نشاں ہوں فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارےقمرؔ بزم انجم کی مجھ کو میسر صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- بہت شکریہ اور بڑی مہربانی مری زندگی میں حضور آپ آئےقدم چوم لوں یا کہ آنکھیں بچھا دوں کروں کیا یہ میری سمجھ میں نہ آئےS. H. Bihari (1920–1987)
- پھروں ڈھونڈتا میکدہ توبہ توبہ مجھے آج کل اتنی فرصت نہیں ہےسلامت رہے تیری آنکھوں کی مستی مجھے مے کشی کی ضرورت نہیں ہےUnknown