کیا میکدہ ہے عشق حقیقت میں یار کا
وحیدالدین احمد وحیدکیا میکدہ ہے عشق حقیقت میں یار کا
بے خود کا ہے جو حال وہی ہوشیار کا
کیا محو عشق ہوں مجھے اتنی نہیں خبر
فرقت کی شب ہے روز ہے یا وصل یار کا
جو چاہے وہ سلوک کرے حسرت بقا
میں اور ساتھ زندگئ مستعار کا
پہلو میں اب کہاں ہے وہ دل وہ ہجوم یاس
کیا جلد مٹ گیا ہے نشان اس دیار کا
باتیں بھی ہیں تو وہ ہیں کہ ہو اور غم سوا
کیا جانیں کس طرف کو ہے دل غم گسار کا
گلشن میں منتشر تو ہیں اوراق گل تمام
کیسا تھا کچھ نہ پوچھو زمانہ بہار کا