کیا کوفت تھی دل کے لخت کوٹے نکلے
Mir Taqi Mir (1723–1810)کیا کوفت تھی دل کے لخت کوٹے نکلے
ٹکڑے جو ہوئے جگر کے ٹوٹے نکلے
چھاتی جو پھٹی ندان جلتے جلتے
اس میں کے پھپھولے سارے پھوٹے نکلے
کیا کوفت تھی دل کے لخت کوٹے نکلے
ٹکڑے جو ہوئے جگر کے ٹوٹے نکلے
چھاتی جو پھٹی ندان جلتے جلتے
اس میں کے پھپھولے سارے پھوٹے نکلے