کیا بتاؤں بے ترے کیسا رہا
Rafi Ahmad Aaliکیا بتاؤں بے ترے کیسا رہا
یہ سمجھ مر مر کے میں جیتا رہا
چودھویں کی رات میں نکلا جو چاند
مجھ کو پہروں آپ کا دھوکا رہا
بھول کر بھی تم کو کچھ آیا نہ دھیان
مرنے والا مر گیا جیتا رہا
کس لئے اوروں سے ہو تم پوچھتے
دیکھ لو اب آ کے مجھ میں کیا رہا
جی گیا تو میں یہ سمجھا جی گیا
جیتے جی کا روگ تھا جاتا رہا
کیا لگایا ہاتھ دھڑ سے آپ نے
پاؤں پر سر کٹ کے دھڑ سے آ رہا
رکھ گئے دو پھول میرے ڈھیر پر
مر گئے پر بوجھ یہ ان کا رہا
میں ہی اک کانٹا تھا سو میں بھی نہیں
سچ ہے اب کس کا انہیں کھٹکا رہا