کہتا ہے یہ اپنی آنکھوں دیکھیں گے فقیر
Mir Taqi Mir (1723–1810)کہتا ہے یہ اپنی آنکھوں دیکھیں گے فقیر
بینش نہیں رکھتے کیا جواں ہوں کیا پیر
اندھے ہیں جہاں کے لوگ سارے اے میرؔ
سوجھے نہ جسے اسے یہ کہتے ہیں بصیر
کہتا ہے یہ اپنی آنکھوں دیکھیں گے فقیر
بینش نہیں رکھتے کیا جواں ہوں کیا پیر
اندھے ہیں جہاں کے لوگ سارے اے میرؔ
سوجھے نہ جسے اسے یہ کہتے ہیں بصیر