کو عمر کہ اب فکر امیری کریے
Mir Taqi Mir (1723–1810)کو عمر کہ اب فکر امیری کریے
بن آوے تو اندیشۂ پیری کریے
آگے مرنے سے خاک ہوجے اے میرؔ
یعنی کہ کوئی روز فقیری کریے
کو عمر کہ اب فکر امیری کریے
بن آوے تو اندیشۂ پیری کریے
آگے مرنے سے خاک ہوجے اے میرؔ
یعنی کہ کوئی روز فقیری کریے