کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی

Naji Shakir

کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی

کہے ہیں بات ایسی خیال میں میرے نہیں آتی

جو چاہو سیر دریا وقف ہے مجھ چشم کی کشتی

ہر ایک موئے پلک میرا ہے گویا گھاٹ خیراتی

برنگ اس کے نہیں محبوب دل رونے کو عاشق کے

سعادت خاں ہے لڑکا وضع کر لیتا ہے برساتی

جو کوئی اصلی ہے ٹھنڈا گرم یاقوتی میں کیونکر ہو

نہ لاوے تاب تیرے لب کی جو نامرد ہے ذاتی

نہ دیکھا باغ میں نرگس نیں تجھ کوں شرم جانے سیں

اسی غم میں ہوئی ہے سرنگوں وہ وقت نہیں پاتی

کہاں ممکن ہے ناجیؔ سا کہ تقویٰ اور صلاح آوے

نگاہ مست خوباں وہ نہیں لیتا خراباتی