کشتۂ ناز دل ربا ہیں ہم

Qamar Hilali

کشتۂ ناز دل ربا ہیں ہم

زخمیٔ خنجر ادا ہیں ہم

کیا کہیں تم سے ہم کہ کیا ہیں ہم

مظہر نور کبریا ہیں ہم

آپ پر جب سے مبتلا ہیں ہم

خویش و بیگانے سے جدا ہیں ہم

آپ ہیں اپنے حسن پر شیدا

آپ اپنے ہی پر فدا ہیں ہم

دونوں عالم سے کچھ نہیں مطلب

کوچۂ یار کے گدا ہیں ہم

گو بظاہر ہیں صورت آدم

فی الحقیقت خدا‌ نما ہیں ہم

بس قمرؔ اتنا افتخار ہمیں

یار کے نقش کفش پا ہیں ہم