چلتے ہیں ہم بھی سوئے چمن چھا گئی گھٹا

وحیدالدین احمد وحید

چلتے ہیں ہم بھی سوئے چمن چھا گئی گھٹا

ساقی شراب لے کے پہنچ آ گئی گھٹا

جلوہ جو اگلے لطف کا دکھلا گئی گھٹا

اپنی نظر کے سامنے لہرا گئی گھٹا

پانی برس چکا تھا ابھی خوب باغ میں

دور شراب دیکھ کے پھر آ گئی گھٹا

اس سال آگے دیکھیے کرتی ہے کیا سلوک

اگلے برس تو خوب سا رلوا گئی گھٹا

ایسے خیال عیش میں ہوتے ہیں دن بسر

دیکھا جدھر اٹھا کے نظر چھا گئی گھٹا

اب بھی نہ مے کشی کا کروں شغل اے وحیدؔ

آئی بہار پھول کھلے چھا گئی گھٹا