آج پھر اس گلی میں جاتے ہیں
سید امیر حسن بدرآج پھر اس گلی میں جاتے ہیں
اپنی قسمت کو آزماتے ہیں
لب شیریں سے دیتے ہیں دشنام
شہد میں زہر وہ ملاتے ہیں
کیجئے وار تیغ ابرو کا
سر تسلیم ہم جھکاتے ہیں
عشق میں ہو گئے ہیں ہم مزدور
ناز محبوبوں کے اٹھاتے ہیں
مجھ کو گھائل جو ان کو کرنا ہے
زہر میں تیغ کو بجھاتے ہیں
وہ برس پڑتے ہیں اگر مجھ پر
میرے دل کی لگی بجھاتے ہیں
زلف چھو لی جو میں نے وہ بولے
تم سے گستاخ مار کھاتے ہیں
ہجر میں کیا کہیں غذا کیا ہے
غم جاں کاہ روز کھاتے ہیں
مجھ سے رونق ہے ان کی محفل کی
شمع ساں مجھ کو وہ جلاتے ہیں
بعد مردن یہ ان کی دل سوزی
شمع لے کر لحد پہ آتے ہیں
ترک عشق بتاں کیا اے بدرؔ
اب مدینہ کو ہم تو جاتے ہیں