میں گلہ کر رہا ہوں قسمت کا

سید امیر حسن بدر

میں گلہ کر رہا ہوں قسمت کا

کون موقع ہے یہ شکایت کا

تھا اثر دل میں کچھ محبت کا

پوچھتے تھے نشان تربت کا

بدرؔ وارفتہ ہو کے حضرت کا

کس سے ہے ادعا رقابت کا

ڈر نہ تھا دل میں کچھ قیامت کا

تھا بھروسا تری شفاعت کا

جل اٹھا دل میں داغ حسرت کا

بجھ گیا جب چراغ تربت کا

سن کے واعظ کی پی گئے مے کش

مقتضا تھا یہی شرافت کا

عرق آلودہ رخ کا وصف لکھا

عطر کھینچا گل لطافت کا

شب فرقت تھی رات تربت کی

روز فرقت تھا دن قیامت کا

نہیں ملتا ادا شناسوں کو

تولا ماشہ مزاج حضرت کا

زندگی کا بھی ٹھیکا لیتے ہو

وعدہ کرتے تو ہو قیامت کا

واہ رے حسن تیری رعنائی

رنگ بدلا حیا طبیعت کا

نہ تو مے ہے نہ جام و ساقی ہے

رنگ پھیکا ہے آج صحبت کا

شب گیسو سے بھی دراز ہے یہ

طول کیا کہئے روز فرقت کا

رتی سیم قمر کی چمکی ہے

اوج دیکھو تو اہل دولت کا

پست سے پست زینہ ہے کرسی

آپ کے بام عرش رفعت کا

کس غضب کی ہے سانولی صورت

شور عالم میں ہے ملاحت کا

بے حقیقت یہ خاک کا پتلا

اک نمونہ ہے تیری صنعت کا

آج کیا ہوں ازل سے پروانہ

میں تری شمع بزم قربت کا

دشت غربت میں میرے سر پر تھا

سائباں تیری نیلگوں چھت کا

بدرؔ تم بھی تو ہو بنی ہاشم

فخر بے جا نہیں سیادت کا

بدرؔ مرحوم کو خدا بخشے

آدمی تھا بڑی مروت کا