مے کشی صبح و شام کرتا ہوں
Mir Taqi Mir (1723–1810)مے کشی صبح و شام کرتا ہوں
فاقہ مستی مدام کرتا ہوں
کوئی ناکام یوں رہے کب تک
میں بھی اب ایک کام کرتا ہوں
مے کشی صبح و شام کرتا ہوں
فاقہ مستی مدام کرتا ہوں
کوئی ناکام یوں رہے کب تک
میں بھی اب ایک کام کرتا ہوں