ملی کیا خاک راحت کنج مرقد میں نہاں ہو کر

Rafi Ahmad Aali

ملی کیا خاک راحت کنج مرقد میں نہاں ہو کر

زمین گور سر پر پھر رہی ہے آسماں ہو کر

چھری گردن پہ قاتل پھیرتا ہے شادماں ہو کر

نکلتا ہے مرا دم آرزوئے دشمناں ہو کر

ہمارے قتل کرنے کا نہ تھا اس شوخ کا منشا

ابھارا تیغ اور خنجر نے کیسا ہم زباں ہو کر

اڑا لے چل ہوائے شوق آگے سب سے منزل پر

رہا جاتا ہوں پیچھے میں تو گرد کارواں ہو کر

فقیر مست وہ ہوں میں اگر کچھ موج آ جائے

ابھی مے خانہ سے کشتیٔ مے آئے رواں ہو کر

عیاں آثار ہیں یہ آمد فصل بہاری کے

گریباں آ رہا دامن میں میرے دھجیاں ہو کر