لب شیریں ہے مصری یوسف ثانی ہے یہ لڑکا

Naji Shakir

لب شیریں ہے مصری یوسف ثانی ہے یہ لڑکا

نہ چھوڑے گا میرا دل چاہ کنعانی ہے یہ لڑکا

لیا بوسہ کسی نے اور گریباں گیر ہے میرا

ڈوبایا چاہتا ہے سب کو طوفانی ہے یہ لڑکا

سر اوپر لال چیرا اور دہن جوں غنچۂ رنگیں

بہار مدعا لعل بدخشانی ہے یہ لڑکا

قیامت ہے جھمک بازو کے تعویذ طلائی کی

حصار حسن کوں قائم کیا بانی ہے یہ لڑکا

ہوئے روپوش اس کا حسن دیکھ انجم کے جوں خوباں

چمکتا ہے برنگ مہر نورانی ہے یہ لڑکا

قیامت قامت اس کا جن نے دیکھا سو ہوا بسمل

مگر سر تا قدم تیغ سلیمانی ہے یہ لڑکا

میں اپنا جان و دل قرباں کروں اوس پر سیتی ناجیؔ

جسے دیکھیں سیں ہوئے عید رمضانی ہے یہ لڑکا