طوفان اے میرؔ شب اٹھائے تو نے
Mir Taqi Mir (1723–1810)طوفان اے میرؔ شب اٹھائے تو نے
آشوب بلا آنکھوں دکھائے تو نے
رونے سے ترے رو سی چلی آئی ایک
یہ دو دریا کہاں سے پائے تو نے
طوفان اے میرؔ شب اٹھائے تو نے
آشوب بلا آنکھوں دکھائے تو نے
رونے سے ترے رو سی چلی آئی ایک
یہ دو دریا کہاں سے پائے تو نے