دیکھ موہن تری کمر کی طرف

Naji Shakir

دیکھ موہن تری کمر کی طرف

پھر گیا مانی اپنے گھر کی طرف

جن نے دیکھے ترے لب شیریں

نظر اس کی نہیں شکر کی طرف

ہے محال ان کا دام میں آنا

دل ہے مائل بتاں کا زر کی طرف

تیرے رخسار کی صفائی دیکھ

چشم دانا کی نئیں گہر کی طرف

ہیں خوشامد طلب سب اہل دول

غور کرتے نئیں ہنر کی طرف

ماہ رو نے سفر کیا ہے جدھر

دل مرا ہے اسی نگر کی طرف

حشر میں پاکباز ہے ناجیؔ

بدعمل جائیں گے سقر کی طرف