دنیا سے در گزر کہ گزر گہہ عجب ہے یہ
Mir Taqi Mir (1723–1810)دنیا سے در گزر کہ گزر گہہ عجب ہے یہ
درپیش یعنی میرؔ ہے جانا جہاں سے بھی
لشکر میں ہے مبیت اسی بات کے لئے
کہتے ہیں لوگ کوچ ہے کل صبح یاں سے بھی
دنیا سے در گزر کہ گزر گہہ عجب ہے یہ
درپیش یعنی میرؔ ہے جانا جہاں سے بھی
لشکر میں ہے مبیت اسی بات کے لئے
کہتے ہیں لوگ کوچ ہے کل صبح یاں سے بھی