دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتے
Mir Taqi Mir (1723–1810)دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتے
ہم ہو ہی چکے دکھوں کو بھرتے بھرتے
اے مایۂ زندگی ستم ہے نہ اگر
بھر آنکھ تجھے دیکھیں نہ مرتے مرتے
دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتے
ہم ہو ہی چکے دکھوں کو بھرتے بھرتے
اے مایۂ زندگی ستم ہے نہ اگر
بھر آنکھ تجھے دیکھیں نہ مرتے مرتے