دل خوں ہے جگر داغ ہے رخسار ہے زرد
Mir Taqi Mir (1723–1810)دل خوں ہے جگر داغ ہے رخسار ہے زرد
حسرت سے گلے لگنے کی چھاتی میں ہے درد
تنہائی و بیکسی و صحراگردی
آنکھوں میں تمام آب منھ پر سب گرد
دل خوں ہے جگر داغ ہے رخسار ہے زرد
حسرت سے گلے لگنے کی چھاتی میں ہے درد
تنہائی و بیکسی و صحراگردی
آنکھوں میں تمام آب منھ پر سب گرد