خاک میں مل کے ہم آغوش بقا ہو جانا

سید واجد علی فرخ بنارسی

خاک میں مل کے ہم آغوش بقا ہو جانا

عین ہستی ہے محبت میں فنا ہو جانا

ضبط کے بعد دکھانا ہے انہیں رنگ اثر

اے مری آہ غریبوں کی دعا ہو جانا

امتحان کشش حسن ہے اے برق جمال

چاہتا ہوں ترے جلوؤں میں فنا ہو جانا

کون منت کش عیسیٰ ہو پئے چارہ گری

تو ہی اے درد جگر بڑھ کے دوا ہو جانا

تشنۂ لذت ایذا طلبی ہیں چھالے

خلش خار جنوں اور سوا ہو جانا

عبرت انگیز ہے نظارۂ انجام حباب

بحر ہستی میں ابھرنا ہے فنا ہو جانا

داد دیتا روش ناز کی کون اے فرخؔ

ان کا اٹھنا ہی تھا اک حشر بپا ہو جانا