جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازک
Mir Taqi Mir (1723–1810)جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازک
پاکیزہ تری طبع و خو ہے نازک
بلبل نے سمجھ کے کیا تجھے نسبت دی
گل سے تو ہزار پردہ تو ہے نازک
جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازک
پاکیزہ تری طبع و خو ہے نازک
بلبل نے سمجھ کے کیا تجھے نسبت دی
گل سے تو ہزار پردہ تو ہے نازک