تیرا اے دل یہ غم فرو بھی ہوگا
Mir Taqi Mir (1723–1810)تیرا اے دل یہ غم فرو بھی ہوگا
اندیشۂ رزق کم کبھو بھی ہوگا
کھانے کو دیا ہے آج حق نے تجھ کو
کل بھی دیوے گا کل جو تو بھی ہوگا
تیرا اے دل یہ غم فرو بھی ہوگا
اندیشۂ رزق کم کبھو بھی ہوگا
کھانے کو دیا ہے آج حق نے تجھ کو
کل بھی دیوے گا کل جو تو بھی ہوگا