تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی

Naji Shakir

تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی

مجھے سرتاج کر رکھ جان میں عاشق ہوں موروثی

رفو کر دے ہیں ایسا پیار جو عاشق ہیں یکسو سیں

پھڑا کر اور سیں شال اپنی کہتا ہے مجھے تو سی

ہوا مخفی مزا اب شاہدی سیں شہد کی ظاہر

مگر زنبور نے شیرینی ان ہونٹوں کی جا چوسی

کسے یہ تاب جو اس کی تجلی میں رہے ٹھہرا

رموز طور لاتی ہے سجن تیری کمر مو سی

سماتا نئیں ازار اپنے میں ابتر دیکھ رنگ اس کا

کرے کمخواب سو جانے کی یوں پاتے ہیں جاسوسی

برنگ شمع کیوں یعقوب کی آنکھیں نہیں روشن

زمانے میں سنا یوسف کا پیراہن تھا فانوسی

نہ چھوڑوں اس لب عرفاں کو ناجیؔ اور لٹا دوں سب

ملے گر مجھ کو ملک خسروی اور تاج کاؤسی