اے صبا کہہ بہار کی باتیں
Naji Shakirاے صبا کہہ بہار کی باتیں
اس بت گل عذار کی باتیں
کس پہ چھوڑے نگاہ کا شہباز
کیا کرے ہے شکار کی باتیں
مہربانی سیں یا ہوں غصے سیں
پیاری لگتی ہیں یار کی باتیں
چھوڑتے کب ہیں نقد دل کوں صنم
جب یہ کرتے ہیں پیار کی باتیں
پوچھیے کچھ کہیں ہیں کچھ ناجیؔ
آ پڑیں روزگار کی باتیں