اغلب ہے وہ غم کا بار کھینچے گا میرؔ
Mir Taqi Mir (1723–1810)اغلب ہے وہ غم کا بار کھینچے گا میرؔ
منھ دیکھو کہ شکل یار کھینچے گا میرؔ
بیٹھا ہے بنانے اس کی چشم مے گوں
نقاش بہت خمار کھینچے گا میرؔ
اغلب ہے وہ غم کا بار کھینچے گا میرؔ
منھ دیکھو کہ شکل یار کھینچے گا میرؔ
بیٹھا ہے بنانے اس کی چشم مے گوں
نقاش بہت خمار کھینچے گا میرؔ