الہ آباد سے

Majaz Lakhnawi (1911–1955)

الہ آباد میں ہر سو ہیں چرچے

کہ دلی کا شرابی آ گیا ہے

بہ صد آوارگی یا صد تباہی

بہ صد خانہ خرابی آ گیا ہے

گلابی لاؤ چھلکاؤ لنڈھاؤ

کہ شیدائے گلابی آ گیا ہے

نگاہوں میں خمار بادہ لے کر

نگاہوں کا شرابی آ گیا ہے

وہ سرکش رہزن ایوان خوباں

بہ عزم باریابی آ گیا ہے

وہ رسوائے جہاں ناکام دوراں

بہ زعم کامیابی آ گیا ہے

بتان ناز فرما سے یہ کہہ دو

کہ اک ترک شہابی آ گیا ہے

نوا سنجان سنگم کو بتا دو

حریف فاریابی آ گیا ہے

یہاں کے شہر یاروں کو خبر دو

کہ مرد انقلابی آ گیا ہے