یہی نہ سمجھو فقط اک خطاب ہیں ہم تم

وحیدالدین احمد وحید

یہی نہ سمجھو فقط اک خطاب ہیں ہم تم

کوئی تو بات ہے جس کے جواب ہیں ہم تم

ابھی تو صورت موج و حباب ہیں ہم تم

جب اس سے گزرے وہی ایک آب ہیں ہم تم

جو وہ ملے کہیں آفت زدے تو کہتے ہیں

زمانہ بھر ہے مزے میں خراب ہیں ہم تم

نہ پوچھے جائیں گے گر حسن و عشق کے جھگڑے

تو سب سے حشر کے دن بے حساب ہیں ہم تم