پہلے مذاق درد تو پیدا کرے کوئی

سید واجد علی فرخ بنارسی

پہلے مذاق درد تو پیدا کرے کوئی

پھر اپنے دل میں تیری تمنا کرے کوئی

چاک جگر نے فاش کیا راز درد عشق

کیا بات رہ گئی ہے کہ پردا کرے کوئی

روداد خوں چکان محبت ہے ہر سرشک

اس طرح بھی نہ خون تمنا کرے کوئی

یہ جلوہ کیا کہ کوند کے بجلی سی رہ گئی

یوں آؤ سامنے کہ نظارا کرے کوئی

ذوق طلب میں اپنی ہی ہستی ہے سد راہ

آساں نہیں کہ تیری تمنا کرے کوئی

آئینۂ وجود میں اک پرتو جمال

اس طرح جلوہ گر ہے کہ دیکھا کرے کوئی

فرخؔ اگر ہے ناصیہ سائی کا حوصلہ

پہلے سر نیاز تو پیدا کرے کوئی