وعظ میں جب نہیں اثر واعظ
وحیدالدین احمد وحیدوعظ میں جب نہیں اثر واعظ
کیوں پھراتا ہے اپنا سر واعظ
ترک الفت کی کھاؤں گا میں قسم
اس گھڑی دھیان ہے کدھر واعظ
منع رونے سے کیا کرے گا مجھے
اب تو ہے خود ہی چشم تر واعظ
پھر طریق وفا سے بہکانا
کوئی دم اور کر سفر واعظ
چشم جلاد ہم نے دیکھی ہے
اس نظر سے نہ دیکھ ادھر واعظ
جانتا تھا یہ کچھ سنے گا نہیں
ہنس پڑا مجھ کو دیکھ کر واعظ
فصل گل دیکھتے ہی سوجھی اور
آ گیا اپنے رنگ پر واعظ
یاد کس کس طرح کے جملے ہیں
اپنے فن میں ہے خوب ہر واعظ