میرؔ اس کے ہوئے تھے ہم جو یار خاطر

Mir Taqi Mir (1723–1810)

میرؔ اس کے ہوئے تھے ہم جو یار خاطر

سو یاری بخت سے ہیں بار خاطر

ووں خاک میں آپ کو ملاکر اول

آخر کو ہوئے ہیں یوں غبار خاطر