اتنے بھی نہ ہم خراب ہوتے رہتے
Mir Taqi Mir (1723–1810)اتنے بھی نہ ہم خراب ہوتے رہتے
کاہے کو غم و الم سے روتے رہتے
سب خواب عدم سے چونکنے کے ہیں وبال
بہتر تھا یہی کہ ووہیں سوتے رہتے
اتنے بھی نہ ہم خراب ہوتے رہتے
کاہے کو غم و الم سے روتے رہتے
سب خواب عدم سے چونکنے کے ہیں وبال
بہتر تھا یہی کہ ووہیں سوتے رہتے