سہے ستم پہ ستم پھر بھی مدعا نہ ملا

سید واجد علی فرخ بنارسی

سہے ستم پہ ستم پھر بھی مدعا نہ ملا

ہمیں تو درد میں بھی درد کا مزا نہ ملا

فریب شوق نے ناکام جستجو رکھا

تلاش جس کی تھی اس کا کہیں پتا نہ ملا

وہ خاک جور کی لذت سے آشنا ہوتے

جنہیں کہ حوصلہ صبر آزما نہ ملا

ازل سے گرم رو راہ جستجو ہوں میں

ہنوز منزل مقصود کا پتا نہ ملا

طلسم دہر میں اک وہم ہے وجود بشر

ہمیں تلاش سے اپنا بھی کچھ پتا نہ ملا

ملا کے خاک میں ہیں بے نیازیاں اب تک

تمہاری طرح کوئی دیر آشنا نہ ملا

بناتے کعبۂ مقصود جس کو ہم فرخؔ

رہ طلب میں کوئی ایسا نقش پا نہ ملا