رخسار کو ہے زلف شکن در شکن سے ربط
سید امیر حسن بدررخسار کو ہے زلف شکن در شکن سے ربط
یعنی ہے شیخ کعبہ کو اب برہمن سے ربط
یوں ہی ہے مجھ کو اس بت پیماں شکن سے ربط
ہے چند روزہ روح کا جیسے بدن سے ربط
پھولوں کو جس طرح ہو بہار چمن سے ربط
یوں ہی تھا مجھ کو بھی کسی گل پیرہن سے ربط
رکھتا نہیں ہوں صرف حسین و حسن سے ربط
ہے مجھ کو چار یار سے اور پنجتن سے ربط
خوشیاں منائیں غیر نہ اس ارتباط پر
مجھ سے بھی تھا کبھی بت پیماں شکن سے ربط
حمد و ثنا میں تیری میں رطب الساں رہوں
جب تک رہے دہن میں زباں کو سخن سے ربط
رکھتا ہوں اس لئے میں غرال ختن سے ربط
ہم بھی کسی کے تیر نظر کے شکار تھے
ہم کو بھی تھا کبھی کسی ناوک فگن سے ربط
کس درجہ طول ہے شب تار فراق یار
شاید ہے اس کو زلف شکن در شکن سے ربط
تیر نظر سے دل کو نہ چھلنی بناؤ بدرؔ
اچھا نہیں ہے اس بت ناوک فگن سے ربط