یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں

Naji Shakir

یہ دور گزرا کبھی نہ دیکھیں پیا کی انکھیاں خمار متیاں

کہے تھے مردم شرابی ان کوں نکل گئیں اپنی دے غلطیاں

سوائے گل کے وہ شوخ انکھیاں کسی طرف کو نہیں ہیں راغب

تو برگ نرگس اوپر بجا ہے لکھوں جو اپنے سجن کوں پتیاں

صنم کی زلفاں کو ہجر میں اب گئے ہیں مجھ نین ہیں خواب راحت

لگے ہے کانٹا نظر میں سونا کٹیں گی کیسے یہ کالی رتیاں

جو شمع رو کے دو لب ہیں شیریں تو سبزۂ خط بجا ہے اس پر

زمین پکڑی ہے طوطیوں نے سنیں جو میٹھی پیا کی بتیاں

خیال کر کر بھٹک رہا ہوں نظر جو آئے تیور ہیں بانکے

بناؤ بنتا نہیں ہے ناجیؔ جو اس سجن کو لگاؤں چھتیاں