ہیں قید قفس میں تنگ یوں تو کب کے
Mir Taqi Mir (1723–1810)ہیں قید قفس میں تنگ یوں تو کب کے
رہتے تھے گلے ہزار نیچے لب کے
اس موسم گل میں میرؔ دیکھیں کیا ہو
ہے جان کو بے کلی نہایت اب کے
ہیں قید قفس میں تنگ یوں تو کب کے
رہتے تھے گلے ہزار نیچے لب کے
اس موسم گل میں میرؔ دیکھیں کیا ہو
ہے جان کو بے کلی نہایت اب کے