ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے
Mir Taqi Mir (1723–1810)ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے
خونابہ کشی مدام کی ہے ہم نے
یہ مہلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمر
مر مر کے غرض تمام کی ہے ہم نے
ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے
خونابہ کشی مدام کی ہے ہم نے
یہ مہلت کم کہ جس کو کہتے ہیں عمر
مر مر کے غرض تمام کی ہے ہم نے