ترا قصور نہیں دوست بے وفا ہونا

Zaheen Bikaneri (b. 1979)

ترا قصور نہیں دوست بے وفا ہونا

مرے نصیب میں لکھا تھا غم زدہ ہونا

عجب نہیں ہے کہیں کوئی حادثہ ہونا

زمانہ چاہتا ہے کچھ نہ کچھ نیا ہونا

تری خموشی بھی مجھ کو عزیز ہے لیکن

تو دیکھ میری محبت کی انتہا ہونا

وہ چاہتا ہی نہیں بے وفا زمانے میں

میرے لبوں پہ کسی طور التجا ہونا

دھڑک رہا ہے مرے دل میں وہ ہمیشہ سے

اسے قبول نہیں میرا دیوتا ہونا

چراغ عشق بجھا ہے نہ بجھ سکے گا کبھی

زمانے دیکھ ہوا کا تیری ہوا ہونا

یہ فاصلے کی علامت ہے درمیاں اپنے

جو بات بات پہ ہو جائے فیصلہ ہونا

نظر نظر پہ لگے ہیں فریب کے پردے

بہت ضروری ہے چہرے کا آئنہ ہونا

بدلتے دور میں اب تو بہت ہی مشکل ہے

ذہینؔ دل کا کسی دل سے آشنا ہونا