جانے کس دور کی سزا ہوں میں

Zaheen Bikaneri (b. 1979)

جانے کس دور کی سزا ہوں میں

ابتدا ہوں کہ انتہا ہوں میں

اپنی دھڑکن سے کر مجھے محسوس

صرف سانسوں کا سلسلہ ہوں میں

ٹوٹنا ہی مرا مقدر ہے

خواب ہوں یا کہ آئنہ ہوں میں

مجھ کو سن لے قبول بھی کر لے

ایک ننھی سی التجا ہوں میں

زندگی سے اجل کے دامن تک

چند لمحوں کا فاصلہ ہوں میں

کوئی جھونکا مٹا نہ پایا جسے

نام وہ ریت پہ لکھا ہوں میں

زندگی مجھ سے ہار جائے گی

آزمائش کی انتہا ہوں میں

مجھ سے قائم ہے رونق ہستی

خود کی ہستی سے ہی خفا ہوں میں

اب جو سویا تو سو ہی جاؤں گا

عمر بھر جاگتا رہا ہوں میں

جسم کی قید میں رہا ہوں کبھی

اور کبھی جسم سے رہا ہوں میں