جب آنکھوں میں خواب سہانے رہتے ہیں

Zaheen Bikaneri (b. 1979)

جب آنکھوں میں خواب سہانے رہتے ہیں

اک اک پل میں کئی زمانے رہتے ہیں

ساری خوشیاں اس کے پروں میں رہتی ہیں

جب چڑیا کی چونچ میں دانے رہتے ہیں

رنج و غم کی دھوپ یہاں آئے کیسے

اس بستی میں لوگ پرانے رہتے ہیں

جب زندہ دل سڑکوں پر آ جاتے ہیں

ہر وحشت کے ہوش ٹھکانے رہتے ہیں

ساری دنیا پیار کی ماری ہے لیکن

نظروں میں کچھ ایک دوانے رہتے ہیں

یادوں کے دھندلے دھندلے سے موسم میں

کچھ چہرے جانے پہچانے رہتے ہیں

میری غزلوں میری نظموں میں یارو

لفظوں کے بس تانے بانے رہتے ہیں

ہر منظر آنکھوں سے گزرتا ہے پھر بھی

لوگ سیانے ہیں انجانے رہتے ہیں

صرف بھرم امید کا رکھنے کی خاطر

رشتوں کے سب بوجھ اٹھانے رہتے ہیں

بے گھر ہیں دکھ درد ذہینؔ ان کے اکثر

خوشیوں کے گھر آنے جانے رہتے ہیں