کیسے ہر درد کو سینے میں چھپائے رکھیں

Yasmin Husaini Zaidi Nikhat

کیسے ہر درد کو سینے میں چھپائے رکھیں

اور ہونٹوں پہ تبسم کو سجائے رکھیں

جو تھے اپنے وہ زمانہ ہوا سب چھوڑ گئے

کب تلک بزم کو غیروں سے سجائے رکھیں

یہ سنا ہے کہ وہاں دیر ہے اندھیر نہیں

تو چلو بہر دعا ہاتھ اٹھائے رکھیں

جب یہ چھٹ جائیں گے بادل تو کرن پھوٹے گی

شمع امید کی اک ہم بھی جلائے رکھیں

یوں تو بھولے سے بھی اب یاں نہ کوئی آئے گا

احتیاطاً ہی مگر گھر کو سجائے رکھیں

دل میں سوئی ہوئی چنگاری نے کروٹ لی ہے

اب تو اس آگ سے دامن کو بچائے رکھیں

ہوگا نکہتؔ سے معطر یہ چمن بھی اک روز

بس تری یاد کے پودوں کو لگائے رکھیں