محبتیں تو ملیں گو وفا ملی نہ ملی
Yasmin Husaini Zaidi Nikhatمحبتیں تو ملیں گو وفا ملی نہ ملی
سفر حسین تھا منزل کا کیا ملی نہ ملی
نہ دوستوں سے توقع نہ دشمنوں سے گریز
یہ دل تھا گور غریباں شمع جلی نہ جلی
عجب سا حبس ہے انسانیت کے ذہنوں میں
کسے ہو فکر کہ باد صبا چلی نہ چلی
ترے وصال کے لمحوں کو منجمد کر لوں
شب فراق کا کیا ہے ڈھلی ڈھلی نہ ڈھلی
ہمارا عشق بھی حد سے گزرنا چاہتا ہے
کہ دل ہو محو تکلم نظر ملی نہ ملی
نہیں ہے فکر کوئی باغبان کو نکہتؔ
بہار آئی نہ آئی کلی کھلی نہ کھلی