کسی سانچے میں ڈھل نہیں پاتی
Yasmin Husaini Zaidi Nikhatکسی سانچے میں ڈھل نہیں پاتی
زندگی کیوں سنبھل نہیں پاتی
ناگہانی کا خوف ایسا ہے
کوئی امید پل نہیں پاتی
برسہا سے مرے فراق میں ہے
پھر بھی مجھ کو اجل نہیں آتی
دور اینٹھن کی تو ہے بات کجا
مجھ سے رسی بھی جل نہیں پاتی
اس نے اچھا کیا کنارہ کیا
دور تک میں بھی چل نہیں پاتی
نکہت گل کی کیا توقع ہو
جب کلی کوئی کھل نہیں پاتی